Advisory Services


Advisory

کھجور

  •    نرسری سے اچھی قسم کے منظور شدہ ورائٹی کے پودے خریدیں اس سے پیداوار میں اضافہ ہوتا ہے۔

  •     نئے پودے لگائیں جو نرسری میں پہلے سے تیار شدہ ہوں۔ نئے پودے لگانے کے لیے گڑھے تیار کریں ۔عمل زیرگی شروع کریں اور پودوں کو مٹی چڑھائیں۔ نردانہ اکٹھا کریں۔علاوہ ازیں سکر بھی لگا سکتے ہیں۔

  •     نائٹروجن کھادکی آدھی مقدار ڈالیں ۔ فاسفورس اور پوٹاش کی پوری مقدار پھول نکلنے سے دوہفتہ پہلے فروری کے آخر میں ڈالیں۔

  •     کھاد ڈالنے کے بعد آبپاشی کریں۔

  •     آبپاشی حسب ضرورت کرتے رہیں ۔
     

انگور

  •     ٹر یلس سسٹم (I,Y,T)کے مطابق پودوں کو منظم کریں۔غیر ضروری شاخوں کو پروننگ کڑسے کاٹ دیں۔

  •    پودوں کی اچھی طرح گوڈی کریں۔

  •     ناغوں میں پودے لگائیں اور نئے باغات بھی لگائیں۔

  •    نئے باغات کے لیے اعلیٰ نسل کے پودوں کا انتخاب کریں۔

  •     بارآور پودوں کو فروری کے وسط میں پہلا پانی دینا چاہیے۔

  •     پرانے باغات میں بلحاظ عمر پودوں کو 100سے 120گرام نائٹروجن 150+سے 200گرام فاسفورس اور 100سے 125 گرام پوٹاش ڈالیں۔
     

امرود

  •    کورے سے متاثرہ اور غیر ضروری شاخوں کی کانٹ چھانٹ کریں۔

  •     آبپاشی حسب ضرورت موسمی حالات دیکھ کر کرتے رہیں۔

  •     200گرام بورک ایسڈ ،400گرام زنک سلفیٹ، 400 گرام کاپر سلفیٹ 100لٹر پانی میں حل کر کے سپرے کریں۔

  •    شاخ تراشی کے بعد پھول آنے سے پہلے بیماریوں کے خلاف پھیپھوندی کش زہروں کا سپرے کریں۔
     

آم

  •     موسم سازگار ہوتے ہی کورے سے بچائو کے لیے لگا ئے گئے چھپر اتاردیں ۔ چھوٹے اورپھل نہ لینے والے درختوں کی شاخ تراشی کریں کھودے گئے گڑھے پُر کریں اور وسط فروری کے بعد پودے لگائیں۔

  •     نائٹروجن ، فاسفورس، پوٹاش اور جپسم کھاد ڈالیں۔کھاد ڈالنے کے بعد آبپاشی کریں۔

  •     کیڑوں خصوصاً تیلے، سکیل اور گدھیڑی کے حملہ کا جائزہ لیں اور زیادہ تعداد کی صورت میں سپرے کریں۔سفوفی پھپھوندی کی بیماری کا خاص طورپر جائزہ لیں۔30فیصد پھول آنے پر حفاظتی سپرے کریں۔
     

ٹنل ٹیکنالوجی

  •    ٹنل کے اندر لگائی گئی سبزیوں کی آبپاشی اور کھاد کا استعمال جاری رکھیں۔

  •     سپرے کرنے اورکھاد ڈالنے کے بعد ٹنل کا منہ بند نہ کریں تاکہ گیس پیداہوکر نقصان نہ پہنچائے۔

  • دن کے وقت تقریباً 9بجے صبح سے 4بجے شام تک ٹنل کے منہ کو دونوں طرف سے کھلارکھا جائے تاکہ ٹنل کے اندر زیادہ نمی پیدا نہ ہو جو کہ بیماریوں کا موجب بنتی ہے۔ اگر ممکن ہو تو ٹنل میں ہواخارج کرنے والا پنکھا (Exhaust Fan)لگا دیں تاکہ بے جا نمی کو خارج کیا جا سکے اور درجہ حرارت مناسب رکھا جا سکے۔ کوشش کریں کہ ٹنل میں درجہ حرارت 15سے28درجہ سینٹی گریڈ کے درمیان رہے۔

  •     پودوں کی تربیت ،کانٹ چھانٹ اور گوڈی وغیرہ کا خیال رکھیں۔    

سبزیات:

  •     موسم گرما میں اُگائی جانے والی سبزیوں کریلہ، گھیا کدو، چپن کدو، گھیا توری، بھنڈی توری، بینگن ، ٹماٹر، سبز مرچ، شملہ مرچ، تر اور کھیرا کی کاشت کا وقت فروری تا مارچ ہے۔موسم گرما کی سبزیاں 20سے 35درجہ سینٹی گریڈ کے دوران بہترین نشوونما دیتی ہیں۔ اس سے زیادہ یاکم درجہ حرارت پر پیداوار متاثر ہوتی ہے۔

  •  سبزیوں کی کاشت کے لیے اچھی نکاس اورنامیاتی مادے والی زرخیز میرا زمین ہونی چاہیے ۔ سبزیوں کی کاشت سے ایک دو ماہ پہلے گوبر کی گلی سڑی کھاد بکھیر کر زمین میںملا دیں تاکہ گوبر کی کھاد زمین کا حصہ بن جائے۔

  •     بیج ایسی اقسام کا منتخب کیا جائے جو کہ ہمارے موسمی حالات کے مطابق ہو ، کیڑے مکوڑوں اور بیماریوں کے خلاف قوت مدافعت رکھتے ہوں اور بیج کی شرح اُگائو 80فیصد سے کم نہ ہو۔

  •    زمین میں نرسری کاشت کرنے کی بجائے کوشش کریں کہ پلاسٹک کے Germination Trayمیں کاشت کریں اور مناسب میڈیا(پیٹ ماس یا کوئی اور آمیزہ)استعمال کریں۔

  •     ٹماٹر اور مرچ کی کاشت بذریعہ پنیری کریں ۔ جب پنیری کی عمر 30تا35دن ہو جائے تو اس پنیری کو پٹٹریوں پر سفارش کردہ فاصلہ کے مطابق منتقل کر یں۔کریلہ ، گھیا کدو ،چپن کدو، گھیا توری، تر اورکھیرا کی کاشت پٹٹریوں کی ایک جانب کریں جبکہ بھنڈی توری کی کاشت پٹڑیوں کے دونوںجانب کریں۔

چارہ جات:

  •   برسیم اورلوسرن کی حسب ضرورت آبپاشی کریں ۔لوسرن کی فصل کو ہر کٹائی کے بعد ایک پانی ضرور لگائیں۔

  •    اچھی پیداوار لینے کے لیے برسیم اور لوسرن کی کٹائی کے بعدضرورت کے مطابق نائٹروجنی کھاد استعمال کی جا سکتی ہے۔

سورج مکھی:

  •     بھاری میرا زمین سورج مکھی کی کاشت کے لیے بہت موزوں ہے۔سیم زدہ ،کلراٹھی اور بہت ریتلی زمین اس کے لیے موزوں نہیں ہے۔

  •    ہائبرڈ اقسام عام اقسام کی نسبت زیادہ پیداوار دیتی ہیں اس لیے اچھی شہرت کی حامل کمپنیوں کے ہائبرڈ بیج اپنے علاقے کی مناسبت سے کاشت کریں۔

  •   سورج مکھی کی سفارش کردہ اقسام ہائی سن 33، ٹی40318، ایگوارا 4، این کے آرمنی، یوایس 666، یوایس444، پارسن 3، آگسن5264، آگسن5270، ایس 278، ایچ ایس ایف 350اے، سن 7،اوریسن 648، اوریسن 516 ،اوریسن 675،اوریسن 701 اور رائیناکاشت کریں۔

  •     جنوبی اور وسطی پنجاب  کے اضلاع میں کاشت جلد از جلد مکمل کریںتاہم شمالی پنجاب کے اضلاع میں 15فروری تک کاشت مکمل کریں۔

  •    سورج مکھی کی اچھی پیداوار حاصل کرنے کے لیے فصل کو قطاروں میں کاشت کریں۔ قطاروں کا درمیانی فاصلہ اڑھائی فٹ اور پودوں کا درمیانی فاصلہ 9انچ رکھیں۔

  •    اچھے اُگائو والے صاف ستھرے دوغلی (ہائبرڈ) اقسام کے بیج کی فی ایکڑ مقدار 2 کلوگرام رکھیں۔

  •    کاشت سے پہلے بیج کو پھپھوندی کش زہر تھائیو فنیٹ میتھائل بحساب 2 گرام فی کلو گرام بیج ضرور لگائیں۔

  •    بوائی کے وقت کمزور زمین میں پونے دو بوری ڈی اے پی +ایک بوری ایس او پی اوراوسط زرخیز زمین میںڈیڑھ بوری ڈی اے پی اور ایک بوری ایس او پی فی ایکڑ استعمال کریں۔

  •   پہلا پانی روئیدگی کے 20دن بعد اور دوسرا پانی پہلے پانی کے 20دن بعد لگائیں۔

مکئی:

  •  بھاری میرا اور گہری زرخیز زمین جس میں نا میاتی مادہ کی مقدار بہتر ہو اورپانی جذب کرنے کی صلاحیت اچھی ہو مکئی کی کاشت کے لیے موزوں ہے۔ریتلی، سیم زدہ اور کلراٹھی زمین اسکی کاشت کے لیے موزوں نہیںہے۔

  •    بہاریہ مکئی کی کاشت تمام میدانی علاقوں میں جنوری کے آخری عشرہ سے فروری کے آخر تک مکمل کرلیں۔

  •    زیادہ پیداوا ر حاصل کرنے کے لیے ہائبرڈ اقسام کی کاشت کریں۔

  •   بہاریہ مکئی کی کاشت کے لیے قطاروں کا درمیانی فاصلہ اڑھائی فٹ رکھیں۔ وٹوں پر کاشت کی صورت میں دوغلی اقسام کا پودے سے پودے کا فاصلہ 6انچ اور عام اقسام کا 7تا8انچ جبکہ پٹڑیوں پر کاشت کی صورت میں دوغلی اقسام کا 8تا9انچ اور عام اقسام کا 10سے11انچ رکھیں ۔شرح بیج 8 سے 10 کلوگرام فی ایکڑ رکھیں۔مکئی کی کاشت کے لیے میظ پلانٹر بھی استعمال کیا جا سکتا ہے۔

  •   دوغلی اقسام کے لیے کمزور زمین میں تین بوری ڈی اے پی+ دو بوری ایس او پی +ایک چوتھائی بوری یوریا ، درمیانی زمین میں اڑھائی بوری ڈی اے پی +ڈیڑھبوری ایس او پی اور زخیز زمین میں دو بوری ڈی اے پی+ ایک بوری ایس او پی فی ایکڑ بوائی کے وقت ڈالیں۔

  • مکئی کی عام اقسام کے لیے آبپاش علاقوں کی درمیانی زمین میں دو بوری ڈی اے پی+ڈیڑھ بوری ایس او پی جبکہ کمزور زمین میں اڑھائی بوری ڈی اے پی +ڈیڑھ بوری ایس او پی فی ایکڑ  بوائی کے وقت استعمال کریں۔

چنا:

  •     چنے کی فصل میں جڑی بوٹیوں کی تلفی جاری رکھیںتاکہ فصل میں پانی کی کمی نہ ہونے پائے کیونکہ جڑی بوٹیاں بھی پانی استعمال کرتی ہیں۔

  •     چنے کی فصل کو پانی کی کم ضرورت ہوتی ہے۔ ویسے بھی چنا زیادہ تر بارانی علاقوں کی فصل ہے۔ آبپاش علاقوں میں بارش نہ ہونے کی صورت میں خصوصاً پھول آنے پر اگرفصل سوکا محسوس کرے تو ہلکا پانی لگا دیں۔

  •     کابلی چنے کودوسرا پانی پھول آنے پر دیں۔

  •    ستمبر کاشتہ کماد میں چنے کی فصل کو کماد کی ضرورت کے مطابق آبپاشی کافی ہوتی ہے۔

  •     آبپاش علاقوں میں اگر کثرت کھاد، اگیتی کاشت کی وجہ سے فصل کا قد بڑھ رہا ہو تو مناسب حد تک سوکا دیں یا کاشت کے دو ماہ بعد شاخ تراشی کریں۔

  •      کیڑے مکوڑوں اور بیماریوںکے انسداد پر خصوصی توجہ دیں تاکہ فصل کیڑوں اور بیماریوںکے حملہ کی وجہ سے سٹریس میں نہ آئے اور پیداوار میں بھی کمی نہ ہو۔

کماد:

  •     کماد کی اچھی پیداوار کے لیے اچھے نکاس والی بھاری میرا زمین نہایت موزوں ہے۔شورزدہ ریتلی زمین کماد کی کاشت کے لیے موزوں نہ ہے البتہ میرا اور ہلکی میرا زمین پر بھی اسکی کاشت ہو سکتی ہے بشرطیکہ حسب ضرورت پانی دستیاب ہو نیز اس کو مونجی اورکماد کے وڈھ میں اور کپاس کے بعد بھی کاشت کیا جا سکتا ہے۔ 

  •    ان فصلات کی برداشت کے بعد روٹاویٹر یا ڈسک ہیرو چلا کر پچھلی فصل کی باقیات کو تلف کیا جائے ۔ اس کے بعد 10تا12انچ گہری کھیلیوں کے لیے دومرتبہ کراس چیزل ہل یا ایک مرتبہ مٹی پلٹنے والا ہل ضرور چلائیں ۔پھر تین چار مرتبہ عام ہل چلا کر زمین کو بھربھرا کر لیں۔

  •    زمین کی بہتر تیاری کے لیے ہرتین سال بعد ایک دفعہ گہرا ہل ضرور چلائیں تاکہ زمین کو زیادہ گہرائی تک تیار کیا جاسکے

  •     گنے کی کاشت کھیلیوں میں کرنے کے لیے ہموار زمین کوگہرا ہل چلاکر اور مناسب تیاری کے بعد سہاگہ دیں اور پھر رجر کے ذریعے 10تا12انچ گہری کھیلیاں 4فٹ کے فاصلہ پر بنائیں۔

ہمیشہ صحت مند، بیماریوں اور کیڑوں سے پاک فصل سے بیج کا انتخاب کریں ۔خاص طور پر ایسے کھیت سے بیج ہرگز نہ لیں جس میں رتہ روگ کی بیماری ہو۔ بیج بناتے وقت بیمار اور کمزور گنے چھانٹ کر نکال لیں۔

  •     کورے سے متاثرہ اور گری ہوئی فصل سے بیج نہ لیں۔

  •    لیری(یکسالہ) فصل سے بیج منتخب کریں ۔مونڈھی فصل سے بیج نہ لیں۔

  •    سموں پر کھوری یا سبز پتوں کا غلاف نہیں ہوناچاہیے وگرنہ اگائو کم ہوتا ہے اور دیمک لگنے کا احتمال بھی بڑھ جاتاہے۔

  •     بیج کو پھپھوندی کش زہر کے محلول میں 5 تا 10 منٹ تک بھگو کر کاشت کریں۔

  •    بروقت کاشت اور دیگر موزوں حالات میں فی ایکڑ 2 آنکھوں والے 30ہزار سمے یا 3 آنکھوں والے 20ہزار سمے ڈالنے چاہئیں۔یہ تعدا د گنے کی موٹائی کے لحاظ سے تقریباً 100تا120من گنے سے حاصل کی جا سکتی ہے۔

  •     اپنے علاقے کی مناسبت کے حساب سے کماد کی قسم کا انتخاب کریں

ترقی دادہ اقسام:

  •    اگیتی پکنے والی اقسام :  سی پی 77-400، سی پی ایف237، سی پی ایف 250اور سی پی ایف 251۔

  •     درمیانی پکنے والی اقسام :   ایچ ایس ایف 240، ایچ ایس ایف242،ایس پی ایف213، ایس پی ایف 234، سی پی ایف 246،سی پی ایف247، سی پی ایف 248 ،سی پی ایف 249، سی پی ایف 253، سی پی ایس جی: 2525اورایس ایل ایس جی 1283

  •    پچھیتی پکنے والی اقسام :  سی پی ایف 252۔

نوٹ:

  •     ایس پی ایف234 جنوبی پنجاب کے اضلاع ما سوائے دریائی علاقہ جات کے لیے موزوں ہے ۔

  •     ایچ ایس ایف 242، سی پی ایف 246، سی پی ایف 247، سی پی ایف 248، سی پی ایف 249 ،سی پی ایف 250 اور سی پی ایف 251 پنجاب کے تمام اضلاع ما سوائے دریائی علاقہ جات کے لیے موزوں ہیں۔ جبکہ  سی پی 77-400،ایس پی ایف 213 ، سی پی ایف 237، ایچ ایس ایف 240، سی پی ایف 252، سی پی ایف 253 ،سی پی ایس جی 2525اور ایس ایل ایس جی 1283پنجاب کے تمام اضلاع بشمول دریائی علاقہ جات کے لیے موزوں اقسام ہیں۔

  •     ایچ ایس ایف240 کانگیاری سے متاثر ہوتی ہے اس لیے متاثرہ فصل کا مونڈھا نہ رکھیں اوربیج صحت مند فصل سے حاصل کریں ۔

  •   کمادکی ممنوعہ اقسام یعنی این ایس جی 59، سی او1148،سی او جے 87، سی او975، ایس پی ایف 238،فخر ہند،ایل 118، سی او ایل۔54، بی ایل۔4،بی ایف۔162،سی او ایل۔44،سی او ایل۔29 اور ایل۔ 116 ہرگز کاشت نہ کریں۔

  •    کین کمشنر پنجاب کے جاری کردہ اعلامیے کے مطابق کمادکی ممنوعہ این ایس جی 59 کی خریداری کر شنگ سیزن 2022-23 کے لیے بحساب 300 روپے فی من پر کی جاری ہے ۔ تاہم کرشنگ سیزن 2023-24 کے لیے خریداری 15 فیصد کٹوتی پر کی جا ئے کی اور کرشنگ سیزن 2024-25 کے لیے کوئی شوگر مل بھی اس قسم کا گنا نہیں خریدے گی۔

  •       کماد کی کاشت وسط فروری تا آخر مارچ تک کریں۔

  •     مکمل کھادیں کمزور زمین میں 3بوری ڈی اے پی اور 2بوری ایس او پی/پونے 2بوری ایم او پی ، درمیانی زمین میں2.5بوری ڈی اے پی اور 2بوری ایس او پی /پونے دوبوی ایم او پی اور زرخیززمین میں 2بوری ڈی اے پی اور 2بوری ایس او پی /پونے دوبوی ایم او پی فی ایکڑ بوائی کے وقت ڈالیں۔

  •     زنک کی کمی صورت میں زنک سلفیٹ (33فیصد)بحساب 6کلوگرام فی ایکڑ  یا اس کے متبادل کوئی دوسرا مرکب بوقت بوائی استعمال کریں۔
     

گندم:

 

  •    گندم کو بارشوں کے تناظر میں ضرورت کے مطابق پانی لگائیں۔

  •    جڑی بوٹیوں کی تلفی کے لیے فصل کی ابتدائی حالت میں پہلے پانی کے بعد جڑی بوٹیوں کی شناخت کو مدنظر رکھتے ہوئے جڑی بوٹی مار زہروں کو فوراََـ  سپرے کریں۔

  •     درجہ حرارت میں ا ضافہ اور سبز رنگ کی وجہ سے کنگی اور سست تیلا کا حملہ بڑھ سکتا ہے۔اس لیے تسلی اورشناخت کے بعد کنگی مارزہروں کاسپرے کریں۔جہاں یوریا کھاد بالکل نہ دی گئی ہو، فصل پیلی ہو یا فصل کمزور نظر آ رہی ہو تو وہاںیوریا کھاد دی جا سکتی ہے یا جھاڑ اور گانٹھیں بنانے کے آخری مراحل میں 3 فیصد یوریا کا سپرے بھی کیا جا سکتا ہے۔