ٹماٹر

ٹماٹر ایک اہم سبزی جو اپنی خوشنما رنگت اور بہترین ذائقہ کی بدولت ہر طبقے کے لوگوں میں یکساں مقبول ہے۔

فصل کے بارے

پیداواری منصوبہ ٹماٹر23-2022

ٹماٹر ایک خوشنما رنگت اور بہترین ذائقے والی سبزی ہے۔ٹماٹرمیں وٹامن اے،  بی، سی اور معدنی نمکیات مثلاََ فولاد،کیلشیم اور فاسفورس کافی مقدار میں ہوتے ہیں جوانسانی صحت کے لئے مفید ہیں۔ٹماٹر کے پھل میں لائیکو پین(Lycopen)پائی جاتی ہے جو جسم سے فاسد مادوں کے اخراج میں مدد دیتی ہے۔ اس کے بے شمار استعمال ہیں۔سالن اور نمکین چاول والی تمام ڈشز کا تقریباََ لازمی جز ہے اور سلاد کے طور پر بھی استعمال کیا جاتا ہے ۔ٹماٹر سے پلپ،چٹنی ،کیچپ اور پیسٹ جیسی مصنوعات تیار کی جاتی ہیں۔

 پنجاب میں پچھلے پانچ سالوں میں ٹماٹر کا زیرِ کاشت کل رقبہ ، کل پیداوار اور اوسط پیداوار:

سال

رقبہ

کل پیداوار

اوسط پیداوار

 

 ہیکٹر

 ایکڑ

ٹن

 کلوگرام فی ہیکٹر

من(40 کلوگرام) فی ایکڑ

2017-18 8272 20447 109445 13227 133.88
2018-19 8903 22001 138397 15544 157.33
2019-20 8968 22160 163771 18262 184.23
2020-21 7859 19420 147317 18745 189.65
2021-22 6487 16030 130839 20169 204.05

آب و ہوا: 

ٹماٹر کے پودے زیادہ گرمی یا سردی برداشت نہیں کرسکتے۔ اس کی نشوو نما کے لئے بہترین درجہ حرارت 14تا30ڈگری سینٹی گریڈ ہے۔

ٹماٹر کی فصل کے لئے درجہ حرارت کی ضروریات(سینٹی گریڈ):

 پودے کی حالت 

کم سے کم درجہ حرارت

موزوں درجہ حرارت

زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت

اُگائو 11 29-16 34
بڑھوتری  18 24-21 32
پھل کا بننا(رات )  10 17-14 20
دن  18 24-19 30
 سرخ رنگ کا آنا   10 24-20 30

نوٹ:  6 ڈگری سینٹی گریڈ سے کم درجہ حرارت فصل کو نقصان پہنچتا ہے اور منفی 2 ڈگری سینٹی گریڈپر پودے مر جاتے ہیں۔
 

 

بیج

شرح بیج
     

 ایک ایکڑ کی نرسری  کے لئے 80تا100گرام بیج چاہیے لیکن بہت اچھے اُگائو والا 50گرام بیج بھی کافی ہوتا ہے۔شرح بیج کا انحصار شرح اُگائو پر ہوتا ہے۔

ٹماٹر کی اقسام

  1.  نادر

    یہ قسم تحقیقاتی ادارہ برائے سبزیات ایوب ریسرچ فیصل آباد میں تیار کی گئی ہے جو انتہائی اعلیٰ پیداواری صلاحیت کی حامل ہے۔ اسکا پھل پکنے کے بعد کافی دیر تک سخت رہتا ہے اور یہ بیماریوں کے خلاف قوتِ مدافعت رکھتی ہے۔

  1.   نقیب

    یہ قسم تحقیقاتی ادارہ برائے سبزیات ایوب ریسرچ فیصل آباد میں تیار کیا گیا ہے۔ یہ قسم اعلیٰ پیداواری صلاحیت کی حامل ہے۔ اس قسم کا چھلکا سخت اور موٹا جبکہ پھل لمبوترا ہوتاہے۔ اسے دور دراز کی منڈیوں تک لے جانا نسبتاًآسان ہے۔ یہ بیماریوں کے خلاف بہتر قوتِ مدافعت رکھتی ہے۔


ٹماٹر کی ہائبرڈ اقسام

   ٹماٹر کی بیل والی ہائبرڈ اقسام کو بھی بغیر ٹنل کے بانس کی چھڑیوں اور رسی کی مدد سے سہارا دے کر کاشت کیا جاسکتا ہے تاہم بغلی شاخوں کو توڑنا ضروری ہوتا ہے۔ 

  •  تحقیقاتی ادارہ برائے سبزیات ایوب ریسرچ فیصل آباد کی تیار کردہ اقسام سہارا ایفI-،سالار، ساندلاورسرخیل وغیرہ ہیں۔ سہارا ایفI-خزاں کی فصل کے لئے موزوں قسم ہے۔
  •  نیاب، فیصل آباد کی  تیار کردہ قسم نیاب ٹومیٹو 21-(NIAB Tomato-21)ہے۔
  •  ان اقسام کے علاوہ مارکیٹ میںٹماٹر کی درآمدی ا قسام بھی دستیاب ہیں۔

کاشت

وقت کاشت:

ٹماٹر کی فصل پہاڑی اور میدانی دونوں علاقوں میں کاشت کی جاتی ہے۔ کاشت کے نمایاں علاقے کٹھہ سگرال(خوشاب)، گوجرانوالہ ، شیخوپورہ،مظفر گڑھ، خانپور(رحیم یار خان) وغیرہ ہیں۔پنجاب کے میدانی علاقوں میں ٹماٹر کی چار فصلیں کاشت کی جاتی ہیں جبکہ پانچویں فصل سرد پہاڑی علاقوں میں کاشت کی جاتی ہے۔ فروری کاشتہ فصل کا رجحان بڑھ رہا ہے جس کے نتیجہ میںمئی میں ٹماٹر کی دستیابی بڑھ جاتی ہے اور کم ریٹ کی وجہ سے کاشتکار کو نقصان بھی ہو سکتا ہے مزید برآں موسم گرم ہونے کی وجہ سے فروری کاشت کی پیداوار نسبتاً کم ہوتی ہے اس لئے ضروری ہے کہ نومبر کاشت کو بھی فروغ دیا جائے اور اسے سردی سے بچانے کے لئے سر کنڈا یا پلاسٹک شیٹ استعمال کی جائے۔

گوشوارہ :پنجاب کے میدانی علاقوں اور سرد پہاڑی علاقوں میں ٹماٹر کی فصل کی کاشت کے اوقات

فصل وقت کاشت نرسری کھیت میں منتقلی برداشت علاقہ
پہلی فصل جولائی و اگست اگست و ستمبر ستمبر،اکتوبر،نومبر چکوال (پوٹھوہار)
پہلی فصل اگست ستمبر نومبر دسمبر خانپور رحیم یار خان
دوسری فصل* اگست ستمبر ستمبر اکتوبر جنوری تا مارچ کٹھ سگرال(خوشاب)
تیسری فصل** وسط اکتوبر آخر نومبر آخر اپریل سے شروع فروری جنوبی  پنجاب
چوتھی فصل*** وسط نومبر شروع فروری آخر اپریل سے وسط جون وسطی پنجاب
پانچویں فصل وسط مارچ آخر اپریل جولائی- اگست سرد پہاڑی علاقے

*ٹماٹر کی دوسری فصل کی کاشت کو پنجاب کے دوسرے اضلاع میں رواج دینے کے لئے اقسام کی تیاری پر تجربات جاری ہیں جن کے نتائج کافی حد تک حوصلہ افزاء ہیں۔

** فصل کو کورے سے بچانا ضروری ہے۔ٹماٹرشدید کورے کو برداشت نہیں کر سکتا۔

***نرسری کو بذریعہ پلاسٹک ٹنل کورے سے بچانا ضروری ہے۔

پنیری کی منتقلی
پنیری کو کھیت میں منتقل کرنے سے ہفتہ دس دن پہلے آبپاشی بند کردینی چاہئے تاکہ پودے سخت جان ہوجائیں۔منتقلی سے قبل پنیری کو اچھی طرح پانی لگادینا چاہئے تاکہ پودوں کو نکالنے میں آسانی ہو اور زیادہ سے زیادہ جڑیں ساتھ آئیں۔ گرمی کے موسم میں پنیری کی منتقلی شام کے وقت کرنی چاہئے اورمنتقلی سے پہلے اس کو مناسب پھپھوند کُش زہر بحساب تین گرام زہر فی لیٹر پانی کے محلول میں پودوں کی جڑوں کوپانچ منٹ ڈبو کر کاشت کریں۔ 
فصل کے لئے زمین کی تیاری
زمین کی تیاری کے لئے ایک مرتبہ مٹی پلٹنے والا ہل چلانا ضروری ہے۔ ایک ماہ قبل 12تا15ٹن فی ایکڑگوبر کی گلی سڑی کھا د زمین میں ملادینی چاہئے۔ پھر 5-4دفعہ ہل چلاکر زمین اچھی طرح نرم اور بھربھری کرکے اچھی طرح ہموار کریں۔ کھیت کوایک ایک کنال کے کیاروں میں تقسیم کرکے ٹماٹر کی قسم کو مدنظر رکھتے ہوئے چار تا پانچ فٹ چوڑی پٹڑیاں بنائیں اور پودوں کا درمیانی فاصلہ ڈیڑھ فٹ رکھیں۔ اگر پٹڑی کے دونوں طرف فصل کاشت کرنا مقصود ہو تو پٹڑیوں کی چوڑائی پونے دو میٹر کر لیں۔تاہم اگر لمبے قد والی قسم لگانا مقصود ہو تو پٹڑی کی چوڑائی مزید بڑھادیں۔

بیماریاں

ٹماٹر کی بیماریاں اور اُن کا اِنسداد

کرکے کاغذ کے لفافوں میں محفوط کرلینا چاہیئے اور لفافوں کو20ڈگری سینٹی گریڈ پر رکھنا چاہیے۔ اچھی فصل کے ایک ایکڑ سے 30تا40کلوگرام بیج حاصل کیا جاسکتا ہے۔ اگر مشین دستیاب نہ ہوتو پکے ہوئے پھل توڑ کر ا نھیں تھیلے میں ڈال کر پائوں سے مسل دیںاور انھیں24تا 36گھنٹے گلنے سڑنے کے لئے چھوڑ دیںبعد ازاں ان کوپانی میں ڈال دیں۔پھلوں کے چھلکے پانی کے اوپر آ جائیںگے ان کو  علیٰحدہ کر دیں۔جب صاف ستھرا بیج نیچے بیٹھ جائے تو اسے پانی سے علیٰحدہ کر کے نچوڑ کر خشک کر لیں۔
 

 نام بیماری

علامات

انسداد

ٹماٹر کا اگیتا جھلسائو
 (Early Blight of Tomato) 
یہ بیماری ایک پھپھوندی(Alternaria  solani) کی وجہ سے ہوتی ہے اور سب سے پہلے پتوں پر گول یا نوکدار داغوں کی صورت میں ظاہر ہوتی ہے جن کا رنگ بھورا ہوتا ہے جبکہ حجم ایک نقطہ سے لے کر 0.5 سینٹی میٹر تک ہوتا ہے۔ یہ داغ بعد میں سیاہ رنگ اختیارکرلیتے ہیں اور مزید براں ہم مرکز دائروں کی صورت اختیار کر لیتے ہیں اور نتیجتاًپتے مرجھاکر جھڑجاتے ہیں۔ ایسی صورت میں تنے پر بھی علامات ظاہر ہوتی ہیں جو دھبوں کی صورت میں ہوتی ہے اور اس جگہ سے تنا گل جاتا ہے۔ نتیجتاً پورا پودا ختم ہوجاتا ہے۔ شدید حملہ کی صورت میں پھل کی ڈنڈی اور اس کے پھل سے جڑنے والی جگہ پر بھی بیماری کی علامات ظاہر ہوتی ہیں۔اس بیماری کے لئے 24 سے 30 ڈگری سینٹی گریڈ درجہ حرارت اور ہوا میں 60فیصد یا اس سے زیادہ نمی بہت موزوں ہے۔

 

  •  جڑی بوٹیوں کو تلف کریں۔
  •   بیماری کی صورت میں محکمہ کی سفارش کردہ پھپھو ندی کش زہروں میں سے کسی ایک کا سپرے کریں۔
  •  ٹیوبوکونازول اورفلوٹریافول بحساب200ملی لٹر فی ایکڑ
  •  ازاکسی سٹروبن اورڈائی فینا کونازول بحساب250ملی لٹر فی ایکڑ 
  •  میٹی رام اورپائیریکلوسڑوبن بحساب600گرام فی ایکڑ
 ٹماٹر کا پچھیتا  جھلساؤ
 (Late Blight of Tomato) 
اس بیماری کا موجب (Phytophthora  infestans) ہے ۔ اس کی وجہ سے پتوں پر اور بعد میں شاخوں پر بھُورے رنگ کے دھبے بنتے ہیں جو بعد میں سیاہی مائل ہو جاتے ہیں۔شدید حملہ کی صورت میںتنے اور پھل بھی متاثر ہوتے ہیں۔
  •  صاف ستھرا قوتِ مدافعت والا بیج منتخب کریں۔
  •  بوائی سے قبل بیج کو سفارش کردہ پھپھوند ی کش زہر ضرور لگائیں۔
  •  زیادہ بارش کی صورت میں کھیت سے پانی نکال دیں۔
  •  علامات ظاہر ہونے کی صورت محکمہ کی سفارش کردہ پھپھوندی کُش زہروں میں سے کسی ایک کا سپرے کریں۔
  •  مینکوزیب اورسائی موکسانل بحساب600گرام فی ایکڑ 
  •  مینڈی پرویامائیڈ بحساب200ملی لٹر فی ایکڑ 
  •  میٹالیگزل،مینکوزیب بحساب300گرام فی ایکڑ 
  •  فلوایززریام اورمیٹالیگزل بحساب200ملی لٹر فی ایکڑ
ٹماٹر کا مرجھائو
(Tomato Wilt) 
یہ بیماری   (Fusarium     oxisporum)   کی وجہ سے ہوتی ہے اور  پاکستان کے تمام علاقوں میں پائی جاتی ہے۔ اس بیماری کا حملہ پودے کی عمر کے دورانیہ میں کسی بھی مرحلہ پرہوسکتا ہے۔ ایسے پودے جن کی جڑیں پنیری کی منتقلی کے وقت زخمی ہوجائیں جلد اس بیماری کا شکار ہوتے ہیں۔ اس بیماری کے شروع میں پتوں کی رگیں متاثر ہوتی ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ پتوں کے کناروں پر پیلاہٹ ظاہر ہوتی ہے اور پتے گرنا شروع ہوجاتے ہیں اور بعد میں ساراپودا مرجھاجاتا ہے۔ اگر جڑوں کو کاٹا جائے تو نالیوں کارنگ بھورا ہوجاتا ہے۔ زیادہ عمر کے پودے زیادہ دیر تک زندہ رہتے ہیں۔ ان پر مرجھاہٹ کی بجائے پیلاہٹ زیادہ نمایاں ہوتی ہے۔
  •  بیج کو ہمیشہ پھپھوندی کش زہر لگا کر کاشت کریں۔
  •  سبزیات کو ہمیشہ بیماری سے پاک صحت مند زمین میں کاشت کریں۔
  •  متاثرہ کھیت سے صحت مند کھیت میں پانی نہ لگایا جائے۔
  •  پنیری کو منتقل کرنے سے پہلے پھپھوندی کش محلول میں پینری کی جڑیں بھگو کر لگائیں۔
  •  حملہ کی صورت میں محکمہ کی سفارش کردہ پھپھُوندی کُش زہروں میں سے کسی ایک کا  استعمال کریں۔
  •  تھائیوفینٹ میتھائل اورکلوروتھیلونل بحساب2کلو گرام فی ایکڑ 
  •  میٹی زام اورپائریکلوسٹروبن بحساب600گرام فی ایکڑ 
  •  سلفر بحساب 3کلوگرام فی ایکڑ
گرے مولڈ
(Grey Mould)
یہ ٹماٹر کی ایک اہم بیماری ہے جو (Botrytis)کی وجہ سے پھیلتی ہے اور فصل پرکسی بھی وقت حملہ آور ہو سکتی ہے اس بیماری کے حملہ سے پتے سیاہی مائل بھورے رنگ کے ہو کر بے جان سے ہو جاتے ہیں۔ شدید حملہ کی صورت میں تنے، پھول اور پھل بھی متاثر ہوتے ہیں۔ یہ بیماری 17 تا 23 ڈگری سینٹی گریڈ درجہ حرارت اور 95فیصدنمی ہونے پر پھیلتی ہے۔
  •  بیماری کے شروع ہونے سے5تا 7دن کے وقفہ سے  درج ذیل زہروں میں سے کسی ایک کا سپرے کریں۔
  •  ڈائی فینا کونازول بحساب200ملی لٹر فی ایکڑ
  •  فلوٹری فول اورٹیبوکونازول بحساب200ملی لٹر فی ایکڑ
  •  ازاکسی سٹروبن اورڈائی فیناکونازول بحساب250ملی لٹر فی ایکڑ 
ٹماٹرکی نیم مُردگی
(Damping Off)
 
اس بیماری کی وجہ ایک پھپھوندی(Pythium) ہے جس سے بیج اُگنے کے بعد یا تو زمین میں ہی گل سڑ جاتا ہے یا پھر پھوٹتے ہی پود ختم ہو جاتی ہے۔اگر حملہ پود پر ہو تو پود سطح زمین کے قریب سڑنی شروع ہو جاتی ہے۔اس پر بھورے سیاہی مائل دھبے پڑتے ہیں جسکی وجہ سے تنے سڑ جاتے ہیں اور پود زمین پر گر کر ختم ہو جاتی ہے۔پھپھوند زمین میں فصل کے بعد بھی زندہ رہتی ہے۔جس کی وجہ سے یہ بیماری آئندہ سال پھیلتی رہتی ہے۔یہ بیماری دو حالتوں پر ظاہر ہوتی ہے ۔ ایک بیج کے اُگنے سے قبل اور دوسری بیج اُگنے کے بعد۔ہر بار کھیت میں ایک ہی سبزی لگانے سے  بیماری شدت اختیار کر جاتی ہے۔ اسی طرح گہرے بیج لگانے سے بھی اس کی علامات شروع ہو جاتی ہیں۔ اگیتی کاشتہ فصل پر بھی اس کاحملہ زیادہ ہوتا ہے۔ 
  •  پنیری کو منتقل کرنے سے پہلے مناسب پھپھُوندی کُش زہر کے محلول میں پانچ منٹ ڈبوئیں۔
  •  فصلات کا مناسب ادل بدل اپنائیں۔بیج کو زیادہ گہرا نہ    بوئیں۔
  •  پٹڑیوں کی اُونچائی زیادہ نہ رکھیں اور زمین میں پانی کھڑا نہ ہونے دیںاور نکاس کا بہتر بندوبست کریں۔
  • نر سری میں چھدرائی کریںاور زیادہ پانی نہ لگائیں۔

 

کیڑے

نام کیڑا

شناخت

نقصان

انسداد

چور کیڑا

(Cut Worm)

پروانہ بھورا،  اگلے پروں پر سیاہ دھاریاں اور ان کے درمیانی حصہ میں سیاہی مائل گردہ نما نشان ہوتا ہے۔ سنڈی کا رنگ سیاہی مائل اور جسم پر لمبے رخ دو سیاہ دھاریاں ہوتی ہیں۔ پورے قد کی سنڈی 5سینٹی میٹر لمبی ہوتی ہے۔

اس کیڑے کی سنڈی اگتے ہوئے پودوں کو رات کے وقت سطح زمین کے قریب سے کاٹ دیتی ہے اور دن کے وقت پودوںکے قریب ہی زمین میں چھپی رہتی ہے۔ کھاتی کم اور کاٹتی زیادہ ہے۔



  • تازہ کٹے ہوئے پودوں کے قریب زمین میں سے سنڈیاں تلاش کرکے تلف کریںاور پروانوں کو تلف کرنے کے لئے روشنی کے پھندے لگائیں۔ جڑی بوٹیاں تلف کریں  
  • گوڈی کر کے پانی لگائیں
  •   پرمیتھرین 0.2% بحساب 3 تا 5گرام 10تا 15کلو گرام راکھ میں ملا کر فی ایکڑشام کے وقت دھوڑا کر یں ۔
  •  

ٹماٹر کے پھل کا گڑوواں یا امریکن سنڈی

(Tomato Fruit Borer)

پروانہ زردی مائل بھورا جبکہ سنڈی سبزی مائل اور جسم پر لمبے رخ دھاریاں ہوتی ہیں۔ یہ کیڑا ٹماٹر کے علاوہ مٹر، مرچوں اور کئی دوسری سبزیوں پر بھی حملہ آور ہوتا ہے۔ سنڈی کے حملہ والی جگہ پر سیاہ رنگ کا فضلہ نظر آتا ہے۔

سنڈی پھل کے اندر داخل ہوکر کھاتی ہے جس سے پھل ناقابل استعمال ہوجاتا ہے۔ ایک سنڈی کئی پھلوں کو نقصان پہنچاتی ہے علاوہ ازیں یہ سُنڈی پتوں اور کو نپلوں کو بھی کھا جاتی ہے

 





  •  روشنی کے پھندے لگاکرپروانوں کوتلف کریں۔
  •  پھول آنے کے فوراً بعد مناسب زہر کی حفاظتی سپرے کریں۔
  •  ٹرائیکو گراما کارڈ لگائیں۔
  •  حملہ شدہ پھل اکٹھے کر کے زمین میں دباتے رہیں۔

 

 چست تیلہ
(Jassid)

پردار کیڑے کا رنگ سبزی مائل پیلا ہوتا ہے۔ اگلے پروں اور سرکی چوٹی پر دوسیاہ داغ ہوتے ہیںنمف یا بچے بے پر مگر شکل میں بالغ جیسے ہوتے ہیں لیکن جسامت میں چھوٹے ہوتے ہیں۔

بالغ اوربچے پتوں کی نچلی سطح سے رس چوستے ہیں جس سے پودے کمزور ہوکر بہت کم پھل دیتے ہیں۔ شدید حملہ کی صورت میں پتے جھلسے ہوئے نظر آتے ہیں اور گرنے لگتے ہیں۔

  •  متبادل خوراکی پودے و جڑی بوٹیاں تلف کریں۔ 
  •  نائٹن پائرم 10اے ایس بحساب 200ملی لٹر یا فلونیکا مڈ 50ڈبلیو جی بحساب 60تا 80گرام یا تھایا میتھوکسم 25ڈبلیو جی بحساب 24گرام فی ایکڑ سپرے کریں۔ 
سست تیلہ 
(Aphid) 

بالغ کیڑا سیاہی مائل سبز اور جسامت میں جوں کے برابر ہوتا ہے۔ پیٹ کے پچھلے حصے پردوچھوٹی چھوٹی نالیاں ہوتی ہیں۔ بچے شکل میں بالغ جیسے ہوتے ہیں لیکن ان کی جسامت ذرا چھوٹی ہوتی ہے۔

بچے اور بالغ دونوں پتوں کی نچلی سطح سے رس چوستے ہیں اور میٹھا رس خارج کرتے ہیں جس پر سیاہ رنگ کی اُلی اُگ آنے کی وجہ سے پتے سیاہ ہوجاتے ہیں اور پتوں میں ضیائی تالیف کا عمل بہت متاثر ہوتا ہے۔ حملہ شدہ پودے کمزور ہوکر بہت کم پیداوار دیتے ہیں۔ یہ کیڑا وائرسی بیماریاں بھی پھیلاتا ہے۔

  •  متبادل خوراکی پودے اور جڑی بوٹیاں تلف کریں۔  مفید کیڑوں کی حوصلہ افزائی کریں۔
  •  کاربو سلفان 20 ای سی بحساب 500 ملی لٹر فی ایکڑ یا ڈائی میتھو ایٹ 40 ای سی بحساب400 ملی لٹر فی ایکڑ سپرے کریں۔
سفید مکھی
(Whitefly)
مکھی کی جسامت تقریباً 1.5ملی میٹر، رنگ پیلا اور پردودھیا سفید ہوتے ہیں۔ بچے گول مگرچپٹے ہوتے ہیں۔  بالغ اور بچے پتوں کی نچلی سطح سے رس چوستے ہیں۔ اس کے علاوہ یہ اپنے جسم  سے لیس دار مادہ خارج کرتے ہیں جس سے پتوں پر سیاہ رنگ کی اُلی لگ جانے سے پودے جھلسے ہوئے نظر آتے ہیں۔ پودوں کا خوراک بنانے کا عمل متاثر ہوتا ہے۔ یہ کیڑا کئی قسم کی وائرسی بیماریاں بھی پھیلاتا ہے۔
  •  متبادل خوراکی پودے اور جڑی بوٹیوں کو تلف کریں۔
  •  مفیدکیڑوں کی حوصلہ افزائی کریں۔
  • سپا ئرو ٹیٹرا میٹ240ایس سی بحساب 150+250 ملی لٹر فی ایکڑ یا پائری پراکسی فین 10.8 ای سی بحساب 500ملی لٹر فی ایکڑ یا اسیٹا میپرڈ 20 ایس پی بحساب 125گرام فی ایکڑ اچھی طرح پتوں کی نچلی طرف سپرے کریں۔ سفید مکھی کے حملے کے انسداد کے لیے خاص طور پر پاور سپرئیر کا استعمال کیا جائے۔ 

جڑی بوٹیوں کی روک تھام

جڑی بوٹیوں کا انسداد
جڑی بوٹیوں کے انسداد کے لئے وترحالت میں مٹی پلٹنے والا ہل چلا کر بعدازاں کلٹیویٹر چلاکر کھلا چھوڑ دیں۔ اس طرح پنیری کی منتقلی سے پہلے زمین کی آخری تیاری پر جڑی بوٹیوں کو ختم کیا جاسکتا ہے۔ پنیری کی منتقلی کے بعد گوڈی اور نلائی کے ذریعے سے بھی جڑی بوٹیوں کو ختم کیا جاسکتا ہے۔فصل سے جڑی بوٹیاں نکالنے کے لئے 3-2دفعہ مناسب وتر میں گوڈی کرنی بہت ضروری ہے گوڈی کرتے وقت پودوں کو مٹی چڑھاتے رہنا چاہئے اور پودوں کا رخ/جھکاؤ پٹڑیوں کی جانب کرتے رہنا چاہئے تاکہ پھل پانی میں گرکر ضائع نہ ہوں۔ کیمیاوی طریقہ انسداد کے لئے محکمہ زراعت کے توسیعی عملہ سے رجوع کریں۔
آرو بینکی (Orobanche) نامی جڑی بوٹی ٹماٹر کے پودے سے براہِ راست خوراک حاصل کرتی ہے۔ اس میں بیج بنانے کی صلاحیت بہت زیادہ ہوتی ہے۔ یہ موسمِ سرما کی فصل میں جہاں کورا نہ پڑتا ہو عام پائی جاتی ہے۔ پنجاب میں خوشاب میں پہاڑوں کے دامن کے ٹماٹر کے کھیتوں میں اس کی بہتات ہے۔اسکی تلفی انتہائی ضروری ہے۔تاہم اگر سیاہ پلاسٹک کو بطورملچ استعمال کیا جائے تو اس سے نہ صرف جڑی بوٹیوں کا اگاؤ رک جاتا ہے بلکہ وتر بھی زیادہ دیر تک قائم رہتا ہے اور پودوں کی نشونما بہتر ہوتی ہے۔

آبپاشی

آبپاشی
آبپاشی کرتے وقت احتیاط ضروری ہے تاکہ پانی پٹڑیوں کے اوپرنہ چڑھے۔ موسم گرما میں فصل کو چھ سات دن بعد( اگر ممکن ہو تو شام کے وقت) اور موسم سرما میں 15تا20دن کے بعد پانی دیں۔پھول آنے پراور پھل بننے کے دوران پانی اور کھاد کا استعمال نہایت ضروری ہے۔ تاہم شدید کورے کے دنوں میں فصل کو پانی ضرور دیں۔

کھادیں

کھادوں کا استعمال
ٹماٹر میں کھادوں کا استعمال درجہ ذیل گوشوارہ میں دیا گیا ہے۔
(عام اقسام)

نائٹروجن(کلوگرام فی ایکڑ) فاسفورس(کلوگرام فی ایکڑ) پوٹاش(کلوگرام فی ایکڑ) بوقت بوائی/منتقلی(بوریوں میں) دوسری قسط (مٹی چڑھاتے وقت) تیسری قسط(دوسری قسط کے ایک ماہ بعد)
58 23 32 ایک بوری ٹی ایس پی +سوا بوری ایس او پی +ایک بوری یوریا
یا
ایک بوری ڈی اے پی +سوا بوری ایس او پی +آدھی بوری یوریا 
یا
اڑھائی بوری ایس ایس پی +سوا بوری ایس او پی +ایک بوری یوریا
یا
اڑھائی بوری نائٹروفاس+سوا بوری ایس او پی 
 
پونی بوری یوریا

پونی بوری یوریا

پونی بوری یوریا

ایک بوری کیلشیم امونیم نائٹریٹ
پونی بوری یوریا

پونی بوری یوریا

پونی بوری یوریا

سوا بوری کیلشیم امونیم نائٹریٹ
 

(ہائبرڈ اقسام)

نائٹروجن(کلوگرام فی ایکڑ) فاسفورس(کلوگرام فی ایکڑ) پوٹاش(کلوگرام فی ایکڑ) بوقت بوائی/منتقلی(بوریوں میں) دوسری قسط (مٹی چڑھاتے وقت) تیسری قسط(دوسری قسط کے ایک ماہ بعد)
90 46 100 دو بوری ڈی اے پی+دو بوری ایس او پی +ایک بوری یوریا10+کلو گرام زنک سلفیٹ (21%) 
یا
دوبوری ٹی ایس پی +دو بوری ایس او پی +پونے دو بوری یوریا10+کلوگرام زنک سلفیٹ (21%)
یا
ساڑھے چار بوری نائٹروفاس+دو بوری ایس او پی 10+کلو گرام زنک سلفیٹ(21%) 
 
ایک بوری یوریا+ایک بوری ایس او پی 

دوبوری امونیم نائٹریٹ +ایک بوری ایس او پی 
ڈیڑھ بوری کیلشیم امونیم نائٹریٹ+ایک بوری ایس او پی 
یک بوری یوریا+ایک بوری ایس او پی 

دو بوری امونیم نائیٹریٹ +ایک بوری ایس او پی 
ڈیڑھ بوری کیلشیم امونیم نائٹریٹ+ایک بوری ایس او پی 
 

 

کٹائی

برداشت
ٹماٹر کی فصل کی برداشت شام کے وقت کریں اور ان کو ٹھنڈا کرنے کے لئے پانی سے دھو لیں تاکہ تازگی برقرار رہ سکے اور اگلی صبح مقامی منڈی میں پھل پہنچایا جاسکے یا پھر صبح کے وقت پھل توڑیں۔ صرف پکے ہوئے پھل توڑنے چاہئیں۔ اگر دوردرازکے علاقے میں پھل بھیجنا مقصود ہو تو پھل کو تھوڑا کچا یعنی جب رنگت تبدیل ہورہی ہو توڑلینا چاہیے اور رات کو ٹرانسپورٹ کریں کیونکہ رات کو درجہ حرارت کم ہوتا ہے اور پھل خراب یا ضائع نہیں ہوگا۔
ٹماٹر کے پھل سے بیج نکالنا
بڑے پیمانے پر بیج اور پلپ کوعلیحدہ کرنے کے لئے مارکیٹ میں پلپر (Pulper)نامی مشین دستیاب ہے۔ اس مقصد کے لئے پھل کا اچھی طرح پکا ہونا بہت ضروری ہے۔یہ پلپ کیچپ، چٹنی اور دوسری مصنوعات کے کام آتی ہے جبکہ بیج کو اچھی طرح دھوکر سورج کی روشنی میں خشک کرکے کاغذ کے لفافوں میں محفوط کرلینا چاہئے اور لفافوں کو20ڈگری سینٹی گریڈ پر رکھنا چاہئے۔ ایک ایکڑ سے 40-30کلوگرام بیج حاصل کیا جاسکتا ہے۔ تاہم یہ فصل کی صحت اور قسم پر منحصر ہے۔ اگر مشین دستیاب نہ ہوتو پکے ہوئے پھل توڑ کر ا نھیں تھیلے میں ڈال کر پاوءں سے مسل دیں اور انھیں24تا 36گھنٹے گلنے سڑنے کے لئے چھوڑ دیں۔بعد ازاں اس میں پانی ڈال دیں۔پھلوں کے چھلکے پانی کے اوپر آ جائیں گے ان کو علیحدہ کر دیں۔جب صاف ستھرا بیج نیچے بیٹھ جائے تو اسے پانی سے علیحدہ کر کے نچوڑ کر خشک کر لیں۔

ذخائر

العزیز کولڈ اسٹوریج
0606304119
ملتان روڈ لیہ
یزمان کولڈ اسٹوریج
03216805151
بائی پاس روڈ ، بہاولپور
کسان کولڈ اسٹوریج
03005667132
سبزی مندی ، بہاولپور
سعیدی کولڈ اسٹوریج
0622885772
بائی پاس روڈ ، بہاولپور
مسلم کولڈ اسٹوریج
0622886202
ملتان روڈ ، بہاولپور
خواجہ کولڈ اسٹوریج
0622731010
ملتان روڈ ، بہاولپور
شیخ بشیر کولڈ اسٹوریج اور آئس فیکٹری
03351874702
نزد سبزی منڈی بائی پاس روڈ لیہ
سعید کولڈ اسٹوریج
0622886784
ہیوی انڈسٹریل ایریا، بہاولپور
الجنت کولڈ اسٹوریج اور آئس فیکٹری
0606414515
چوک اعظم روڈ لیہ
الحفیظ کولڈ اسٹوریج
0622882119
بیک سائیڈ پارڈیز سنیما ، حفیظ کالونی بہاولپور
عباسی کولڈ اسٹوریج
03009686614
احمد پور روڈ نیو سبزی مندی ، بہاولپور
مہر کولڈ اسٹوریج لیہ
0606460015
جامن شاہ لیہ
الرحمان کولڈ اسٹوریج
0606410845
چوک اعظم روڈ لیہ
یونائیٹڈ کولڈ اسٹوریج بہاولپور
0622833197
بائی پاس روڈ ، بہاولپور

Crop Calendar